حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان اور ایران کے تعلقات قدیم تاریخی و تہذیبی روابط پر مبنی ہیں، دونوں ممالک نے برسوں سے باہمی دوستی کے معاہدے سے سفارتی تعلقات مضبوط کیے ہیں، اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور علاقائی تعاون اور ترقیاتی منصوبے دونوں ممالک کی شراکت داری کی مثال ہیں۔ حالیہ صورت حال میں دونوں ممالک تعلقات کو بہتر بنانے اور باہمی تعاون بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ممبئی میں ایران کے قونصل جنرل سعید رضا مسیب مطلق نے روزنامہ صحافت کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر شیخ فضل حسن سے خصوصی گفتگو کی۔
سوال: ہندوستان تیزی سے ایشیا کے ایک بڑے اقتصادی اور ثقافتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس اہم موڑ پر آپ یہاں اپنی تقرری کو کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب: جیسا کہ آپ نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے، بھارت بتدریج عالمی معاشی منظرنامے میں ایک نمایاں اور سازگار مقام حاصل کر رہا ہے۔ ایران بھی، بھارت کے ساتھ اپنے طویل تاریخی تعلقات اور دونوں اقوام کے درمیان موجود گہرے ثقافتی، لسانی اور تہذیبی اشتراکات کی بنیاد پر، صدیوں سے تاریخ کے مختلف ادوار میں بھارت کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔ لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ باہمی تعلقات کے مزید فروغ اور استحکام کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کے عوام کے لیے ایک روشن اور امید افزا مستقبل کی تشکیل کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ، ہم اس وقت بین الاقوامی سطح پر ایک نہایت اہم تاریخی موڑ کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جہاں تعاون کی نوعیت اور وسعت نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ علاقائی حرکیات کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایسے نازک وقت میں، اور بھارت کے اس خطے میں، ذمہ داری سنبھالنا بلاشبہ ایک بھاری اور حساس فریضہ ہے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں اس ذمہ داری کو احسن طور پر نبھا سکوں گا۔
سوال: قونصل جنرل کے طور پر آپ کی بنیادی ترجیحات کیا ہیں، اور اپنے ملک اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے آپ کا طویل مدتی وژن کیا ہے؟
جواب: میری اولین ترجیحات میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی، ثقافتی اور متعلقہ شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اسلامی جمہوریہ ایران کے شہریوں کو خدمات کی فراہمی، بھارت میں ان کے قانونی اور قونصلر امور کی پیروی، اور اُن بھارتی شہریوں کے لیے سہولیات کی فراہمی جو اسلامی جمہوریہ ایران کا سفر کرنا چاہتے ہیں —بالخصوص ویزا کے اجرا کے شعبے میں —ہماری ذمہ داریوں کا اہم حصہ ہے، نیز دیگر متعلقہ امور بھی اسی دائرہ کار میں آتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعاون اور تعلقات کے تحفظ و استحکام کے لیے باہمی عزم کی بدولت، ان کوششوں کا مجموعی منظرنامہ مثبت اور حوصلہ افزا دکھائی دیتا ہے۔
سوال: آپ ہندوستان اور اپنے ملک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی موجودہ حالت کو کیسے بیان کریں گے؟
جواب: جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا، تعلقات کا مجموعی رخ مثبت اور مستقبل کی جانب گامزن ہے، اگرچہ یہ فطری امر ہے کہ راہ میں بعض چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں، جنہیں بآسانی حل کیا جا سکتا ہے۔
سوال: ہندوستان نے حال ہی میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی مسائل پر قابل ذکر موقف اختیار کیا ہے جن میں ایران سے متعلق مسائل بھی شامل ہیں۔ آپ اس طرح کے حساس عالمی معاملات میں ہندوستان کے نقطہ نظر کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب: ایک دوست ملک کی حیثیت سے، جو ایرانی ثقافت سے واقف اور اس کا احترام کرتا ہے، ایران ہمیشہ شراکت دار ممالک کے حقیقت پسندانہ اور اصولی مؤقف کو سراہتا آیا ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ایران مناسب وقت پر اس خیرسگالی کا بھرپور جواب دیتا ہے۔ بعض موجودہ توسیع پسند طاقتوں کے برعکس، جو محض قلیل المدتی مفادات کے تابع ہیں اور تاریخی گہرائی سے محروم ہیں، ایران ایک ایسی تہذیب، ثقافت اور تاریخی تسلسل کا حامل ملک ہے جس کی جڑیں ہزاروں سال پر محیط ہیں۔
سوال: ہندوستان کے مالیاتی دارالحکومت کے طور پر، ممبئی عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کرتا ہے۔ ہندوستان اور آپ کے ملک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کو بڑھانے کے کیا مواقع موجود ہیں؟
جواب: جیسا کہ آپ نے درست طور پر اشارہ کیا، ممبئی کاروباری برادری کے لیے بے شمار تجارتی مواقع فراہم کرتا ہے۔ ہم اس امر کی کوشش کر رہے ہیں کہ حالات کو اس انداز میں ہموار کیا جائے کہ دونوں ممالک کے تاجر ایک دوسرے سے بہتر طور پر واقف ہو سکیں، ان مواقع کو زیادہ وضاحت سے پہچان سکیں، اور باہمی تبادلے اور تعاون کے ذریعے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ ساتھ ہی یہ حقیقت بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ بالادست طاقتوں نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں جو اس نوعیت کی سرگرمیوں میں سنگین رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ اس کے باوجود، ہم ان مشکلات پر حتی المقدور قابو پانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
سوال: بہت سے ہندوستانی طلباء بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ آپ کا ملک کون سے تعلیمی مواقع پیش کرتا ہے، اور قونصل خانہ ہندوستانی طلباء اور اسکالرز کی کس طرح مدد کرتا ہے؟
جواب: اس وقت ایران نہایت پرکشش تعلیمی مواقع فراہم کر رہا ہے۔ ایرانی جامعات، انتہائی کم داخلہ شرائط اور دنیا بھر میں کم ترین تعلیمی اخراجات کے ساتھ، طب، انجینئرنگ، انسانی علوم اور دیگر شعبہ جات میں اعلیٰ معیار کی تعلیمی سہولیات دوست ممالک—بالخصوص بھارتی طلبہ—کو فراہم کر رہی ہیں۔ میری اور میرے رفقا کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ان اداروں کا تعارف کرائیں، ویزا کے اجرا میں سہولت فراہم کریں، ایران میں زیرِ تعلیم بھارتی طلبہ سے متعلق امور کی پیروی کریں (اگرچہ اصولی طور پر یہ ذمہ داری تہران میں بھارتی سفارت خانے کے دائرہ اختیار میں آتی ہے)، اور اس ضمن میں پیش آنے والے تمام معاملات کو حل کریں۔
سوال: حالیہ ہفتوں میں ایران میں مظاہرے پرتشدد بدامنی میں بدل گئے۔ آپ کے خیال میں ان پیش رفت کی اصل وجوہات کیا تھیں، اور یہ پرتشدد کیسے ہوئے؟
جواب : ابتدائی احتجاجات معاشی خدشات پر مبنی تھے، جو بنیادی طور پر امریکہ کی جانب سے مسلط کی گئی معاشی جنگ اور پابندیوں کے ذریعے ایرانی عوام پر ڈھائے گئے صریح ظلم، اور نام نہاد ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی کا نتیجہ تھے۔ ان اقدامات کا واضح مقصد عوام کو تھکا دینا اور اس کے ذریعے ایران میں نظام کی تبدیلی کو ممکن بنانا تھا،ایک ایسا طرزِ عمل جو بذاتِ خود دہشت گردی کی ایک شکل، یعنی ’’معاشی دہشت گردی‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ جیسا کہ امریکی وزیرِ خزانہ نے (تقریباً دس دن قبل) کہا: “امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی مؤثر رہی ہے اور اس نے لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا ہے۔
یہ احتجاجات ابتدا میں اور کچھ عرصے تک پُرامن رہے، قومی حکام کی توجہ کا مرکز بنے، اور مظاہرین کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتوں کے ذریعے ان پر غور کیا گیا۔ بعض افراد کو تو کابینہ کے اجلاسوں میں بھی مدعو کیا گیا جہاں تبادلۂ خیال ہوا۔ ایسے وقت میں جب معاملات تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے تھےاور بعض مواقع پر مظاہروں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت بھی حاصل تھی،خاموش اور تربیت یافتہ دہشت گرد سیلز کو متحرک کیا گیا۔ بیرونِ ملک موجود ایران مخالف عناصر، جو موساد سے روابط رکھتے تھے، کی ہدایات پر یہ گروہ چھوٹے یونٹس کی صورت میں باقی مظاہرین میں سرایت کر گئے اور پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائیاں کرنے لگے۔ نوجوانوں اور کم عمر افراد کو منشیات، نفسیاتی ادویات اور شراب کے ذریعے اکسا کر ان کی فطری قوتِ فیصلہ سلب کی گئی اور کئی مواقع پر انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔
8 جنوری سے انہوں نے عوام کی ذاتی املاک، نیز سرکاری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عمارتوں کو نذرِ آتش کرنا اور تباہ کرنا شروع کیا۔ ایک منظم منصوبے کے تحت جس کی بنیاد اس دعوے پر تھی کہ اگر مظاہرین کا مقابلہ کیا گیا تو امریکہ ایران پر حملہ کرے گا،انہوں نے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کی اور جانی نقصان کو مصنوعی طور پر پیدا کرنے کا عمل شروع کیا۔ اس مقصد کے لیے پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی فورسز، راہگیروں، مظاہرین اور دیگر افراد کو، جن میں تین سالہ بچے سے لے کر معمر شہری تک شامل تھے، آتشیں اسلحے اور تیز دھار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔
ایک طے شدہ منصوبے کے تحت، جس کا مقصد اموات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور عوامی جذبات کو بھڑکانا تھا، انہوں نے سب سے پہلے سیکڑوں ایمبولینسوں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر حملے کیے اور انہیں نذرِ آتش کیا، تاکہ ہنگامی امداد کی فراہمی کو روکا جا سکے۔ بعد ازاں، انہوں نے داعش طرز کی سفاکانہ کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا،ایسے اعمال انجام دیے جو ایرانی عوام سے منسوب نہیں کیے جا سکتے: افراد کے سر قلم کیے گئے، ہاتھ کاٹے گئے، ایک نرس اور کئی اہلکاروں کو زندہ جلایا گیا، اور کم از کم 2427 افراد کو ان طریقوں سے، یا موساد کی فراہم کردہ آتشیں اسلحے سے، یا اجتماعی تشدد (جہاں درجنوں افراد ایک زخمی شخص پر حملہ آور ہوئے) کے ذریعے قتل کیا گیا۔
اسی دوران، پیشگی منصوبہ بندی کے تحت، سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر نے نئے سال کے موقع پر ان دہشت گردوں اور ان کے ساتھ موجود اسرائیلی ایجنٹس کو مبارکباد دی۔ موساد کی سرکاری ویب سائٹ نے بھی دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسرائیلی آپریٹو اہلکار سڑکوں اور چوراہوں میں ان کے ساتھ موجود ہیں۔ بالآخر، اسی منصوبے کے مطابق، امریکہ کے صدر نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ مظاہرین کے خلاف کسی بھی اقدام کے نتیجے میں ایران پر فوجی حملہ کیا جائے گا۔
(یہ بیانات ایسے وقت میں دیے جا رہے ہیں جب خود امریکہ کے شہر منی ایپولس میں جاری بدامنی کے دوران وفاقی حکام بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر مظاہرین قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو محض چھوئیں بھی تو پولیس کو سخت طاقت کے استعمال کا اختیار حاصل ہے—جس میں موقع پر تشدد، گرفتاری، طویل قید اور حتیٰ کہ براہِ راست فائرنگ کے ذریعے ہلاکت بھی شامل ہے۔ امریکی پولیس نے اسی کے مطابق کارروائیاں کی ہیں اور اب تک متعدد افراد ہلاک، جبکہ بہت سے زخمی اور گرفتار ہو چکے ہیں۔)
ان دہشت گردانہ اور وحشیانہ کارروائیوں کے بعد، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے جان و مال اور عوامی نظم و ضبط کے تحفظ کی اپنی بنیادی ذمہ داری کے تحت فیصلہ کن مداخلت کی۔ عام شہریوں اور پُرامن مظاہرین کو فسادیوں اور دہشت گردوں سے الگ کرنے کی کوشش کے ساتھ، انہوں نے دہشت گرد عناصر کا سامنا کیا اور اس پہلے سے منصوبہ بند آپریشن کو دو دن کے اندر انجام تک پہنچا دیا۔
سوال: ایرانی حکومت کس طرح عوامی شکایات کا ازالہ کر رہی ہے، جبکہ بیک وقت استحکام کی بحالی اور بات چیت کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے؟
جواب: جیسا کہ میں نے سابقہ سوال کے جواب میں بھی عرض کیا، حکومتی حکام نے احتجاجات سے نمٹنے کے لیے شہری اور پُرامن ذرائع اختیار کیے، جن میں مظاہرین کے نمائندوں سے ملاقاتیں، ان کے مطالبات پر غور، اور ان کے خدشات کے ازالے کے لیے فیصلے شامل تھے۔ تاہم، غیر ملکی خفیہ ادارےاپنی اپنی حکومتوں کے ایجنڈے کے مطابق ان احتجاجات کے پرامن اختتام اور عوام کے حقوق کی بحالی کے خواہاں نہیں تھے۔ وہ ہزاروں جانوں کی قیمت پر اپنے سرپرست ممالک کے مذموم مقاصد کو آگے بڑھانے اور نظام کی تبدیلی کے ہدف کے حصول کے لیے پرعزم تھے۔
لیکن خداوندتعالیٰ کے فضل و کرم سے، ایران کی قوتِ اقتدار اور عوام کی کروڑوں پر مشتمل حمایت جس کا مظاہرہ 12 جنوری کو ملک بھر کے تمام صوبوں، شہروں اور حتیٰ کہ بعض دیہات میں ہونے والے عظیم الشان اجتماعات اور اس دہشت گردانہ واقعے کے معزز شہداء کے شایانِ شان جنازوں میں ہواکے باعث وہ اپنے حتمی مقصد میں ناکام رہے۔ اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران میں مکمل استحکام اور امن و سکون قائم ہے۔
سوال: ایران اکثر بین الاقوامی جانچ پڑتال اور میڈیا کے بیانیے کا موضوع رہتا ہے۔ آپ کے سفارت خانے یا قونصل خانوں نے ایران کے نقطہ نظر کو زیادہ موثر انداز میں پیش کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟
جواب: ایران کی سیاسی اور قونصلر نمائندگان بیرونِ ملک بیانات کے اجرا، انٹرویوز، مضامین کی اشاعت، مختلف مواقع پر تقاریر، قانونی و سرکاری اجلاسوں کے انعقاد، اسلامی جمہوریہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں اور میزبان ممالک کی ایجنسیوں کے درمیان روابط کے قیام، اور دیگر اقدامات کے ذریعے ایران کے مؤقف کو اجاگر کر رہی ہیں اور دیگر اقوام و ایران کے دوستوں کے لیے حقائق کو واضح کر رہی ہیں، تاکہ عوامی شعور اور آگاہی میں اپنا ممکنہ کردار ادا کیا جا سکے۔
سوال: کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ سفارتی رسائی اور عوامی رابطے کو بہتر بنانے کی گنجائش موجود ہے؟ کیا سبق سیکھا ہے، اور آگے بڑھ کر مشغولیت کو کیسے مضبوط کیا جا سکتا ہے؟
جواب: ابلاغ کے شعبے میں، جیسا کہ انسانی علوم کے میدان میں، کوئی حد بندی نہیں۔ جتنا زیادہ رابطہ فروغ پاتا ہے، اتنی ہی اس کی وسعت کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اسی طرح، جب تعامل کی جہتیں وسیع ہوتی ہیں تو نئے زاویے اور روابط جنم لیتے ہیں۔ ایسے تعاملات کا استحکام مکالمے، ابہام کے ازالے، حسنِ نیت، باہمی اعتماد اور ان بدنیتی پر مبنی اشاروں سے اجتناب کے ذریعے ممکن ہے جو تعلقات میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
سوال:آپ ہندوستان کے لوگوں خصوصاً نوجوانوں کو دوستی، تعاون اور عالمی ہم آہنگی کے بارے میں کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: بھارتی عوام کے لیے میرا پیغام جیسا کہ ہر ایرانی کا ہوتا ہے،امن، دوستی، اور بھارت کی ترقی کے لیے ایران کی صلاحیتوں کے تعمیری استعمال پر مبنی ہے، نیز دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر قربت اور روابط کے فروغ کا خواہاں ہے۔ بھارتی میڈیا کے لیے بھی میرا ایک پیغام ہے، خبروں کا حصول ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ایران سے متعلق رپورٹس یا تو اسلامی جمہوریہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں سے لی جانی چاہئیں، یا کم از کم ایسی غیر جانبدار ایجنسیوں سے جو ملک کے اندر معتبر نمائندے اور تصدیق شدہ ذرائع رکھتی ہوں—نہ کہ ایران مخالف مراکز یا ایسے اداروں سے جن کی ایران میں کوئی باضابطہ موجودگی یا صحافتی بنیاد نہ ہو اور جو ناقابلِ تصدیق یا من گھڑت ذرائع پر انحصار کرتے ہوں۔ کم از کم، اگر ایسی معاندانہ ذرائع کا حوالہ دیا بھی جائے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ ایرانی مؤقف اور سرکاری بیانات کو بھی ساتھ پیش کیا جائے۔میں معزز، کامیاب اور معتبر صحافت (SAHAFAT) میڈیا کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔









آپ کا تبصرہ